نجانے اس کریم کو تو ہے کہ وہ پسند۔۔۔
کچھ سال پہلے کی بات ہے ایک نشئ نشہ کر کے مدرسے میں آگیا ۔۔
وہ جیسے ہی مدرسے کے واش روم میں گیا کسی نے باہر سے کنڈی لگا دی کچھ دیر وہ واش روم میں ہی بند رہا۔۔۔اتنے میں ایک استاد کو خبر ہوئی انہوں نے دروازہ کھولا۔اور اس سے معذرت بھی کہ یہ کہ نجانے کس کی شرارت ہے ۔وہ نشئ وہیں ان کے پاس بیٹھ گیا ۔۔اور رونے لگا ۔۔اور بولا مولانا میں توبہ کرنا چاہتا ہوں گناہوں سے ۔ہر گناہ سے ۔۔۔وہ رو رہا تھا اور ساتھ ساتھ کہہ رہا تھا بس اب یہ زندگی چھوڑ دوں گا اب نہیں رہنا گناہوں میں اب اللہ کا نیک بندہ بننا ہے ۔۔مولانا صاحب نے بھی اسکی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ بس آپ نے پکا ارادہ کرلیا ہے نیک بننے کا اللہ پاک آپکو بنادیں گے ۔۔وہ مولانا صاحب کا ہاتھ پکڑ کر کہہ رہا تھا کہ آپ گواہ رہنا میں نے توبہ کرلی ہے۔۔وہ اپنے گھر گیا اور اسی رات اسکا انتقال ہوگیا۔حقیقت تو یہ تھی کہ اسکی موت کا وقت قریب آچکا تھا اور اللہ نے اسکے دل کا رخ بدلنا تھا اس کے لیے یہ سب بہانہ بنا اور وہ اللہ کی بارگاہ میں گناہوں سے توبہ کر کے پیش ہوگیا۔۔
میں اس واقعہ کو بھول چکی تھی لیکن آج ڈاکٹر عامر لیاقت کی موت کا سن کر مجھے یاد آیا۔۔انکی زندگی میں بھی یکدم کچھ ایسے واقعات ہوئے کہ وہ ٹوٹے اور رو پڑے اور روتے ہوئے نجانے انہوں نے اللہ سے کیا باتیں کی ہوں گی انکے ملازم بھی اس بات کا اظہار کررہے ہیں کہ وہ روتے رہتے تھے۔۔اور آخر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔اور آپ خود دیکھیں کہ جس سوشل میڈیا پر ہر وقت ان پر تنقید ہوتی رہتی تھی آج ہر جگہ ان کے لیے دعائے مغفرت ہورہی ہے ۔۔درحقیقت موت کا تو ایک وقت مقرر ہے اس سے پہلے اللہ خوش نصیب لوگوں کو موقعہ دیتے ہیں توبہ کا ۔اللہ پاک ڈاکٹر صاحب کی کامل مغفرت فرمائے اور ہمیں ہدایت عطا فرمائے آمین ثم آمین۔


0 Comments